بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

انتظامی شعبہ جات

المکتبۃ العلمیہ جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

اجمالی تعارف کتب خانہ

حضرت جی  نور اللہ مرقدہ نے ۱۴۲۱ ھ مطابق 2000ء میں جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ کی تاسیس فرمائی۔ تدریجاً ہر سال طلبہ کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہا۔ تو ان کے افادے کے لیے ایک علمی کتب خانہ کی ضرورت پیش آئی۔ چنانچہ کتب خانہ کے قیام کا عزم کیا گیا۔ اس علمی کتب خانہ کی اولین کتب میں سے سنن ابو داؤد شریف کی شرح الدر المنضود بھی ہے جو مؤلف کتاب سرپرستان مدرسہ میں سے حضرت مولانا سید محمد عاقل صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے کتب خانہ کے لیے بطور  عطیہ عنایت فرمائی۔ فجزاھم اللہ احسن الجزاء آمین۔

المکتبۃ العلمیہ میں موجود کتب کی درجہ بندی کا نظم ( نظام کتب خانہ)

جب کتب خانہ میں کتب کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہا تو کتب  کو ایک نظم کے تحت رکھنے کی فکر ہوئی۔ ان کے لیے مشاورت ہوئی۔ جس میں حضرت جی دامت برکاتہم العالیہ نے فرمایا کہ دیگر کتب خانوں میں کیا نظام رائج ہے۔ تو ان سے عرض کی گئی کہ ایک امریکی ڈیوی ڈیسیمل کا  نظام رائج ہے جس نے نصرانی ہونے کے باعث عیسائیت کے لیے ۲۱۰ تا ۲۸۹ کے نمبر مخصوص کیے اور باقی تمام مذاہب کے لیے ۲۹۰ تا ۲۹۹ کے نمبر مخصوص کیے جن میں سے اسلام کو صرف ایک نمبر ۲۹۷ دیا۔

          اس پر حضرت جی نے فرمایا کہ مسلمانوں کے بڑے بڑے تاریخی کتب خانے تھے ان میں موجود کتب بھی تو آخر کسی نظام کے تحت رکھی جاتی تھیں۔ لہٰذا اپنا کوئی نظام وضع کرو۔ چنانچہ حضرت جی کی دعاوؤں اور توجہات سے ایک خاص نوعیت کا نظام وضع کیا گیا۔ جو انتہائی سہل ہونے کی وجہ سے بہت افادیت کا حامل ہے۔

کمپیوٹر میں کتب کا اندراج

رجسٹر میں اندراج کے ساتھ ساتھ کتب خانہ کے لیے ایک سوفٹ وئیر بھی بنایا گیا۔ چنانچہ اب اس سوفٹ وئیر میں بھی کتب کا باقاعدہ اندراج ہوتا ہے۔

کتب کی تعداد بمع مالیت

اب تک 7727 کتب کا اندراج ہوچکا ہے، جن کی مالیت 3،021،022  تیس لاکھ اکیس ہزار بائیس روپے ہے۔

اراکین کتب خانہ

کتب خانہ میں 4 افراد پر مشتمل عملہ مصروف ِ عمل ہے۔

سالانہ پڑتال

         سال کے آخر یعنی شعبان المعظم میں کتب کی پڑتال کی جاتی ہے۔

بسم اللہ الکریم والحمد للہ العلی العظیم والصلوۃ والسلام علی حبیبہ الکریم وعلیٰ اٰلہٖ وصحبہٖ اجمعین

اجراء کتب کے اصول و ضوابط

نمبر ۱۔کتب کے قارئین کے لیے رقعۃ الطلب مہیا کرنا۔

نمبر۲۔رقعۃ الطلب کو پر کرنے کا طریقہ کار وغیرہ لکھ کر کتب خانہ میں لگادیا جائے۔

نمبر۳۔طالب علموں کے نام کتب کا اجراء نہ ہو۔ البتہ ان کو کتب خانہ کی مطالعہ کے لیے جو مخصوص جگہ ہو اس میں رہتے ہوئے کتب مطالعہ کےلیے دی جائیں ۔

نمبر۴۔کتب کا اجراء اساتذہ اور انتظامیہ کے مختص کردہ افراد ہی کے نام ہوگا ااور ان حضرات کے نام بھی کتب کااجراء مخصوص میعاد کے لیے ہوگا۔ وقت مقررہ پر کتاب واپس کرنا قاری کی شرعی ذمہ داری ہے۔

نمبر۵۔درسی کتب اور ان کی ایسی شروحات جو ایک جلد پر مشتمل ہوں وہ اساتذہ کے نام جاری نہ ہوگی بلکہ ان کو اپنی ذاتی خریدنا پڑینگی۔ البتہ جو شرح جلدوں پر مشتمل ہو وہ دی جائے گی۔

نمبر۶۔طالب علموں کو بھی کسی شخصی یا مالی ضمانت کے تحت کتب کا اجراء کیا جاسکتا ہے۔

نمبر۷۔انتظامیہ کتب خانہ کو چاہیے کہ وقت مقررہ پر کتاب واپس نہ کرنے کی صورت میں قاری کو جلد اطلاع کریں تاکہ قاری کتاب کی ادائیگی میں مزید تاخیر نہ کرے۔

نمبر۸۔کتاب گم یا خراب کرنے کی صورت میں ذمہ داری قاری پر ہے اور انتظامیہ کتب خانہ کو اختیار ہے چاہے وہ متبادل کتاب لازم کریں یا کتاب کی قیمت۔

نمبر۹۔اگر کوئی کتاب جلدوں پر مشتمل ہو اور قاری اس کی کوئی جلد گم یا خراب کردے تو اگر یہ جلد بازار میں بغیر پورے سیٹ کے دستیاب ہو پھر تو اسی جلد کا عوض ادا کرنا پڑے گا۔ ورنہ بقیہ جلدیں قاری کو دے کر پورے سیٹ کا عوض وصول کیا جائے گا۔

نمبر۱۰۔کتا ب کی واپسی کے وقت مقررہ پر اگر قاری کا مطالعہ پورا نہیں ہوا اور اس کو کتاب کی مزید ضرورت ہے تو اسےچاہیے کہ وہ انتظامیہ کتب خانہ سے وقت میں توسیع کروالے یانئے سرے سے کتاب کا اجراء کروالے۔

یہ کتب خانہ وقف اللہ ہے اور کتب خانہ کی انتظامیہ سب کے سب امین ہیں۔

کتب کی پڑتال کا طریقہ کار

          کتب کی پڑتال کا طریقہ کار یہ ہے کہ اولاً موضوع کارڈ کے متعلق تسلی کرلیں کہ پورے ہیں یا نہیں؟ جب خوب اطمینان ہوجائے تو اب ان موضوع کارڈ کا الماری میں موجود کتب سے موازنہ کرلیا جائے یعنی اگر الماری تفسیر کے موضوع کی ہے تو تفسیر کے کارڈ تفسیر والی الماری کے پاس جاکر الماری میں سے ایک ایک کتاب نکالتے جائیں اور اس کا کارڈ دیکھتے جائیں اور اسی ترتیب سے پڑتال کے ورقہ پر نمبر شمار کتب کے نام وغیرہ لکتے جائیں یادرہے کہ جس ترتیب سے ورقہ پڑتال پر کتب کے نام لکھے جارہے ہیں یہ انکی دائمی ترتیب ہے۔ کارڈوں اور کتب کا آپس میں موازنہ وقتی ہے۔ یعنی پڑتال  کا کام شروع کرنے کی بنیاد ہے بعد میں ایسی زحمت پیش نہیں آئے گی۔ اب ایک ساتھی الماری سے ایک ایک کتاب کا نام و مسلسل نمبر یا پڑتال نمبر بولتا  جائے اور دوسرا ساتھی ورقہ پڑتال لے کر اس میں کتاب کی حاضری لگاتا جائے۔ اس ترتیب کا فائدہ یہ ہوگا کہ تاب اپنی جگہ سے ہل نہیں سکتی مثلاً پہلی ترتیب کے مطابق ورقہ پڑتال میں کتب کی ترتیب یہ تھی۔۱۸۰۰،۱۱۰۷،۱۰۰۰،۸۰۵،۸۰۰ اب ان میں کوئی کتاب مثلاً ۱۰۰۰ اپنی جگہ نہ ہو۔ تو پڑتال کرتے وقت جب ورقہ پڑتال کی ترتیب سامنے ہوگی تو خود بخود معلوم ہوگا کہ ۱۰۰۰ اپنی جگہ  موجود نہیں  جسے دوسری الماریوں یا رجسٹر اجراء میں دیکھ کر بعد میں اپنے مقام پر رکھا جائے۔

پڑتال کتب کے ساتھ ساتھ ورقہ پڑتال میں جن کتب کا اندراج ہوجائے رجسٹر اندراج میں اس پر ص لگا لیا جائے تاکہ ہمیشہ کیلئے یہ ترتیب بن جائے اور اس بات پر یقین ہوسکے کہ تمام مندرجہ کتب کا ورقہ پڑتال میں اندراج ہوچکا ہے۔

المکتبۃ العلمیہ جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ

تفصیلی تعارف کتب خانہ

 سب سے پہلے شکر ہے اس ذات کا جس نے ہمیں اس نیک کام میں حصہ لینے کی توفیق عطا فرمائی ۔ اور ہمت بھی عطافرمائی۔

جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ کا قیام ۱۴۲۱ھ بمطابق ۲۰۰۰ ء میں ہوا۔ اس وقت ایک درجہ تھا اس میں دو طالب علم تھے ۔ سے بتدریج ہر سال ایک درجہ اللہ کے فضل و کرم سے بڑھتا رھا جب تعلیمی درجات موقوف علیہ تک پہنچے تو مجلس منتظمہ نے باقاعدہ کتب خانہ کا قیام فرمایا۔

سب سے پہلی کتاب تفسیر میں” تفسیر عثمانی ” حدیث میں "الدر المنضود” اور فقہ میں” فتاوی محمودیہ” بنام مدرسہ جمع ہوئیں۔ ثانی الذکر سر پرستان میں سے حضرت مولاناسید محمد عاقل صاحب کی طرف سے عطیہ میں آئی تھی ۔

 اللہ کریم کے فضل و انعامات میں سے ایک انعام یہ ہوا کہ اس کتب خانے میں الحمد للہ خلاف توقع عطیات کی شکل میں کتب کی آمد ہوئی ۔ سب سے پہلی آمد بصورت نقد ایک اللہ کی بندی نے کتب کی خریداری کے لئے پیش کی تا حال کر رہی ہیں اللہ کریم قبول فرمائیں۔

بفضلہ تعالیٰ یہ بات ضابطہ کے طور پر طے ہوئی کہ کتب کا ذخیرہ بمد عطیات و صدقہ جاریہ بصورت ایصال ثواب کیا جائے گا ۔ الحمد للہ پہلے ہی سال تقریبا ۲۰۰۰ کی تعداد میں کتب تفسیر وحدیث وفقہ اور دیگر فنون میں جمع ہوئیں۔

کتب خانہ کی ترتیب و تہذیب

جب کتب خانہ قائم ہو گیا اور کتب کی آمد کثیر تعداد میں ہوئی تو ان کو ایک نظام کے تحت اور ترتیب سے رکھنے کی ضرورت پیش آئی ۔ پھر اس کام کو سر انجام دینے کے لئے کسی ایک فرد کو اس کا ذمہ دار بنایا جائے تا کہ اس نظام کو چلائے۔

سرپرست مدرسہ حضرت جی دامت برکاتھم نے مہتمم مدرسہ ھذا الحاج محمد ذکاء اللہ صاحب اور حضرت  مفتی انیس احمد صاحب مظاہری کی موجودگی میں مولوی گلزار احمد (سابق مدرس جامعہ ھذا ) کو یہ ذمہ داری سپرد کی اور کچھ ہی عرصہ بعد مولوی محمد عادل صاحب ( مدرس مدرسہ ھذا )کو بھی کتب خانہ کی ذمہ داری میں شامل کر دیا گیا۔

تہذیب و ترتیب کے لئے سب سے پہلی مشاورت ماہر نظام ڈیوی ڈیسمل محترم حافظ محمد عمران صدیقی صاحب ( ریٹائر ڈ لائبریرین دیال سنگھ لائبریری) سے ہوئی انہوں نے کتب خانوں کی ترتیب اور نظام کے بارےمیں بتایا کہ کیا کیا نظام ہوتا ہے صدیقی صاحب نے جاتے ہوئے فرمایا کہ نظام بنایا ہوا ہے اس کو دیکھ لیں اگر کوئی بات سمجھ میں نہ آئے تو میرے سے سمجھ لینا چنانچہ ایک کتب خانہ کی مہر اور رجسٹر بنانے کا فرما گئے ۔ ہم نے ان کے نظام کو منگوا کر دیکھا تو بہت سے اعتراضات و اشکالات پیدا ہوئے مثلاً ان کی ترتیب کے جو نمبرات چل رہے تھے تو اس میں اسلام کو صرف ۲۹۰ سے ۲۹۷ کے نمبر دئے گئے تھے لہذا ہم نے جب یہ اشکال کیا تو محترم عمران صاحب نے جواب دیا کہ اصل میں میں نے ڈیوی ڈیسمل کی تقلید کی ہے اس کے نظام کو قائم رکھا ہے۔

اس پر سر پرست جامعہ حضرت جی دامت برکاتھم نے صدیقی صاحب سے سوال کیا کہ یہ ڈیوی ڈیسمل کون ہے؟ تو اس پر صدیقی صاحب نے فرمایا کہ یہ اس فن ( نظام کتب خانہ ) کا ماہر ایک انگریز گزرا ہے تمام دنیا میں اس کا نظام چل رہا ہے آپ کو بھی اس کا نظام چلانا پڑے گا۔

مشاورت کے بعد حضرت جی دامت برکاتھم نے فرمایا کہ ان کے علاوہ کسی اور ماہر سے رابطہ کیا جائےجس کا اپنا بنایا ہوانظام ہو۔ چنانچہ چیف لائبریرین قائد اعظم لائبریری جناب تاج محمد صاحب سے مشاورت رکھی گئی معلوم ہوا کہ وہ بھی اسی ڈیوی ڈیسمل کے نظام کو چلا رہے ہیں ، انہوں نے ہمیں قائد اعظم لائبریری آنے کی دعوت دی ہم چند افراد وہاں گئے اس نظام کو دیکھا سمجھا۔

 دوبارہ پھر حافظ محمد عمران صدیقی صاحب سے مشاورت کی گئی اس میں ان سے یہ کہا گیا کہ کوئی ایسا نظام جو اس کے مترادف ہو تو جواب میں فرمایا اس کے سوا اور نظام چل ہی نہیں سکتا اسی لئے دینی مدارس والے بھی اسی نظام کو لے رہے ہیں جیسے جامعہ اشرفیہ وغیرہ ۔۔۔ آپ لوگ بھی اس کو چلائیں تو اس پر حضرت جی نے فرمایا کہ یہ اعداء اسلام میں سے ہیں ہم اس کی تقلید نہیں کریں گے، اپنا نظام خود بنائیں گے اس پر صدیقی صاحب ہنس پڑے کہ اتنا بڑا انظام آپ لوگ کیسے بناؤ گے ؟ صدیقی صاحب کی بات بھی بجا تھی لیکن حضرت جی کی خود اعتمادی اور خودداری بھی اعلیٰ تھی۔

حضرت جی دامت برکاتھم نے ہم لوگوں کو مختلف کتب خانوں میں بھیجا اور متعدد مشاور تیں کروائیں لیکن کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کس طرح نظام وضع کیا جائے ۔ پھر یہ طے ہوا کہ کتابوں میں جو رقعے ہیں ان کو پُر کیا جائے چنانچہ ہم اسی کام میں لگ گئے اور ساتھ ساتھ مشارتیں ہوتی رہیں۔

جب یہ کام (یعنی رقعوں والا ) مکمل ہوا تو حضرت جی دامت برکاتھم نے مشاورت رکھی اس میں فرمایا کہ اب نظام وضع کرنے کا وقت آگیا ہے کوئی نظام وضع کر کے مشاورت بلواؤ۔ ہم نے تین دن بعد مشاورت رکھ لی ، تین دن گزر گئے لیکن کچھ بھی سمجھ میں نہیں آیا ، میں ( گلزار احمد ) نے مفتی صاحب ( انیس احمد مظاہری صاحب دامت بر کاتہم ) سے گذارش کی کہ مزید تین دن مشاورت کو مؤخر کیا جائے ان شاء اللہ ہم اس میں کوئی نظام وضع کر لیں گے، چنانچہ حضرت جی دامت برکاتھم سے گزارش کی گئی تو حضرت نے اس گذارش کو قبول فرمایا ۔ اسکے بعد” نظام کتب خانہ "الطاف شوکت صاحب مرحوم کی کتاب کا بغور مطالعہ کیا اُدھر حضرت جی دامت برکاتھم راتوں کو ہمارے انشراح صدر کی دعائیں کرتے رہتے ۔

 ایک دم اللہ تعالیٰ نے نظام وضع کر وا دیا میں تو کہوں گا کہ یہ صرف حضرت جی دامت برکاتھم کا اللہ تعالیٰ کے سامنے رونا دھونا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے سینوں کو کھول دیا اور ایک بہترین قسم کا اور وسیع نظام اللہ تعالیٰ نےوضع کروادیا۔

بطور نمونہ اس نظام کو تیار کر کے ایک مشاورت بلائی گئی جس میں حافظ محمد عمران صدیقی صاحب ریٹائرڈ لائبریرین دیال سنگھ لائبریری کو شریک کیا گیا انہوں نے یہ نظام دیکھا تو بہت خوش ہوئے اور اس نظام کو مزید بہتربنانے کے لئے چند آراء بھی دی جن کو قبول کیا گیا۔

نظام کتب خانہ کے اصول وضوابط

نمبر۱۔جب کسی کتاب کی  کتب خانہ میں آمد ہو تو فوراً اس کتاب پر رقعہ ( وہ پرچی ) جس کو کتاب پر اندر کی طرف لگائی جاتی ہے کتاب کی تفصیل لکھنے کے لئے لگایا جائے ، اس کے لگانے کی جگہ جو متعین کی گئی ہےوہ کتاب کے اندر جو گتے والا حصہ ہے اس صفحہ کے اوپر کی جانب پہلا کونا ہے وہاں لگایا جائے گا۔

نمبر ۲۔پھر کتب خانہ کی مہر لگائی جائے ۔

نمبر۳۔ہر کتاب کے مخصوص صفحہ پر صرف اندارج نمبر لکھا جائے گا۔

نمبر۴۔مصنف کا نام لکھنے کا طریقہ یہ ہوگا کہ کہ جس نام یا کنیت سے مشہور ہو اس کو پہلے لکھ کر الٹا قومہ (، ) لگاکر مصنف کا اصل نام لکھا جائے ۔

نمبر۵۔ ایک ہی کتاب کے مختلف اعتبار سے مختلف بطاقات ( کارڈز ) ہوں گے مثلاً بطاقة المصنف ، بطاقةالكتاب، بطاقة الموضوع ، اس کے علاوہ اور اعتبار سے بطاقات ( کارڈ ز ) بن سکتے ہیں ۔

نمبر۶۔ رقعہ پُر کرنے کے بعد کتاب کا اندراج رجسٹر اندراج میں کر دیا جائے تا کہ کتاب محفوظ ہو۔

نمبر۷۔ان بطاقات کو الماری میں حروف تہجی کے اعتبار سے رکھا جائے گا۔

جس کتاب کی مختلف جلدیں ہوں ان کے صفحات بطاقہ پر نہ لکھے جائیں۔ اور جس کتاب کی متعدد جلد میں نہیں ہیں یعنی ایک جلد پر مشتمل ہے اس کے صفحات بطاقہ پر لکھے جائیں ، اس کی وجہ یہ ہے کہ بعض دفعہ عنوان بہت بڑا ہوتا ہے سننے والا اس کو بہت ضخیم تصور کرتا ہے جب کہ وہ کتاب ۵۰ صفحوں پر مشتمل ہوتی ہے تو تلاش کرنے والا اس کو بڑی کتاب سمجھ کر ڈھونڈے گا اس طرح تلاش میں دشواری ہو گی ۔

نمبر ۸۔مختلف محققین ہونے کی صورت میں بطاقتہ بھی مختلف ہوں گے، یعنی اگر ایک کتاب کے مختلف محقق ہیں تو بطاقہ بھی مختلف ہوں گے۔

نمبر ۹۔پر چیوں اور کارڈز، کیٹ لاگ وغیرہ کے نام اور اصطلاح درج ذیل ہیں۔

کیٹ لاگ کا نام  ( مفتاح المکتب)

(مصنف کارڈ کا نام (بطاقۃ المصنف

کتاب کارڈ کا نام( بطاقۃ الکتاب)

موضوع کارڈ کا نام (بطاقۃ الموضوع)

طلب پرچی کا نام( رقعۃ الطلب)

کتاب کے اندر والی پرچی کا نام( رقعۃ الکتاب)

نمبر ۱۰۔اگر کسی کتاب کے دو نام ہیں جب کہ کتاب ایک ہی ہے مثلا سنن ابوداود کو عرب کتاب السنن جلی اور ابود اور و خفی لکھتے ہیں اور نجم سنن ابوداود کو جلی لکھتے ہیں۔ ایسی کتاب کا جو مشترک نام ہو گا وہ بطاقہ وغیرہ پر لکھا جائے گا۔

نمبر ۱۱۔موضوعات لکھنے کا طریقہ یہ ہوگا کہ پہلے بنیادی علم لکھ کر قومہ لگا کر ذیلی علم لکھا جائے یہ اس وقت ہے جب عبارت میں لکھے جائیں مثلاً القرآنیات، التفسیر اور اعداد میں لکھے ہیں تو پہلے بنیادی علم کا عدد پھر حدفاصل اس کے بعد ذیلی علم کا عدد لکھا جائے مثلاً القرآنیات جو بنیادی موضوع ہے اور موضوعات میں اس کا نمبر(۱) ہے۔ قرآن مجید محشی قرآنیات کا ذیلی موضوع ہے اس کا عدد (۲) ہے تو اب اسے یوں لکھیں گے ۱۔۲۔ یعنی بنیادی موضوع کا عدد دائیں جانب اور ذیلی موضوع کا عدد بائیں جانب لکھا جائے ۔

نمبر ۱۲۔کتاب کے پشتہ پر جو طلب نمبر لگایا جائے گا اس کا طریقہ یہ ہوگا ۔

نمبر ۱۳۔اس طلب نمبر میں دائیں جانب سے پہلے ب ہے یہ امام بخاری کے نام کا پہلا حرف ہے اور ۲ کا عدد الحدیث بنیادی علم کا عدد ہے اور حد فاصل ہے ۔ ا کا عدد ذیلی علم متن الحدیث کا ہے اور ب بخاری شریف کتاب کا پہلا حرف ہے اور نیچے بٹہ میں اندراج نمبر ہے یعنی جامعہ کے کتب خانہ میں جس نمبر کے تحت داخل ہوئی ہے اور سب سے او پر ع زبان کا ہے یعنی یہ کتاب عربی میں ہیں ۔

نمبر ۱۴۔کتب کی الماریوں کے نمبرات بھی اسی نظام کے تحت ہوں گے۔ یعنی قرآنیات کی الماری نمبر۳-۱۲-۱ کو یوں لکھیں گے ۔۱۔۱،۱۔۲، ۱۔۳، ۱۔۴، ۱۔۵۔

کتب کو الماریوں میں جوڑنے کی ترتیب اندراج نمبروں کے اعتبار سے بھی قائم کی جاسکتی ہے یا کتاب کے نام یا مصنف کے نام کا جو پہلا حرف ہے اس کو لے کر حروف تہجی کے اعتبار سے بھی قائم کی جاسکتی ہے۔

اوپر تک سکرول کریں۔