انتظامی شعبہ جات
شعبہ مطبخ و مطعم (Kitchen and Restaurant)
آج کل ایک وقت کا کھانا 300 افراد کے لیے تیار ہوتا ہے، صبح کا ناشتہ اور رات کا کھانا ، مہمانوں کے لیے کھانا اس کے علاوہ ہے۔اکل شرب(کھاناپینا) بنیادی ضرورت ہے۔ اس سے آنے والے مہمان و خدام مسجد ومدرسہ، اساتذہ وطلبا سب مستفید ہوتے ہیں اور کھانا تناول کرتے ہیں۔صفائی ستھرائی اور حفظان صحت کے اصولوں کا خیال رکھا جاتا ہے۔اس شعبے کی دیکھ بھال اور ذمہ داری ابتدا میں محترم حضرت حافظ خلیل احمد صاحب حفظہ اللہ اور محترم مولانا امیر احمد صاحب حفظہ اللہ کے سپرد تھی اور اب مولانا امیر احمد اس کے مستقل ناظم ہیں اور مولانا عبدالرؤف صاحب ان کے معاون خصوصی ہیں۔معیار بلند رکھنے کے لیے حضرت جی ؒ ہر ماہ آمدو خرچ کا گوشوارہ خود ملاحظہ فرماتے اور پکنے والا کھانا گاہ بگاہ بعوض منگوا کر ملاحظہ فرماتے، کمی بیشی کی پرکھ کے لیے حضرت اماں جی مدظلہا کی خدمت میں گھر بھیجا کرتے اور مولانا امیر احمد حفظہ اللہ کے ذریعے اس کی اصلاح و بہتری کرواتے۔
جب کبھی نقد کی ضرورت ہوتی اور مد میں گنجائش نہ ہوتی تو حضرت رحمۃ اللہ علیہ طلبہ کو جمع کر کے یٰسین پڑھواتے اور صلاۃ الحاجت اور دعا کا خود بھی اہتمام فرماتے اور سب سے اہتمام کرواتے اللہ تعالیٰ عطا فرمادیتے دعاہے کہ کریم مالک عطا فرماتے رہیں۔ آمین
ابتداء میں حضرت جی رحمۃ اللہ علیہ نے طلبا اور ان کے سرپرستان میں خوداری پیدا کرنے اور ان کی سوچ و فکر کی تربیت و اصلاح کی خاطر ہر ایک سے حسبِ حال ماہانہ کچھ نہ کچھ رقم اس مد ( طعام غیر زکوتی) میں وصول کرنے کا نظم بنایا۔ جس کی مقدار کم ازکم100 روپے ہوتی اور زیادہ سے زیادہ 300 روپے ہوتی تھی اگر کسی طالب علم کے حالات کمزور ہوتے تو اس کا حصہ ادارہ خود اداء کرتا اللہ کریم کا فضل ہے اور حضرت جی رحمۃ اللہ علیہ کی برکت ہے۔
آغاز: محلہ کے گھروں سے کھانا اکٹھا کرنے کے بجائے جیسا کہ قرب و جوار کے مدرسوں کا معمول ہوا کرتا تھا حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے شعبہ مطبخ کا آغاز 1421ھ مطابق 2000 ء میں مسجد کی پرانی تعمیر کے مطابق داخلی دروازے کے سامنے سیڑھیوں کے نیچے ایک چولہا رکھنے کے ساتھ فرمایا الحمد للہ یہ شعبہ ا پنی تمام تر ضروریات و سہولیات ( تندور، بڑے برنل والے چولہوں ، وسیع مطعم ) کے ساتھ مہمانان رسول کی خدمت گزاری میں شبانہ روز مصروف ہے۔ طلبہ کو ناشتہ اور دو وقت کا معیاری کھانا فراہم ہوتا ہے۔ ابتدائی وقت میں چند طلبہ کرام تھے اور خود ہی کھانا روٹی پکاتے بشمول حضرت رحمتہ اللہ علیہ کے پوتے کے اپنی اپنی باری اور نظم کے مطابق خدمت سرانجام دیتے تھے۔
ذمہ داران : بحمد اللہ اس وقت 2 طباخ ( باورچی ) خدمات سر انجام دے رہے ہیں شعبہ ھذا کے ناظم وذمہ دار استاذ الحدیث ، حضرت بانی جامعہ نور اللہ مرقدہ کے تربیت یافتہ فرزند حضرت مولانا امیر احمد صاحب حفظہ اللہ ہیں ، آپ کے زیر تربیت معاونت کے امور مولانا عبدالرؤف صاحب سلمہ سر انجام دے رہے ہیں۔ طباخ جامعہ پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے حامل باورچی حضرات کی زیر تربیت خوش ذائقہ انواع واقسام کے کھانے پکاتے ہیں مثلا قیمہ ، مرغی ، سبزی ، گوشت ، کڑھی پکوڑے اور ہر نوع کی دال ، چنے پکتے ہیں ۔
جامعہ ھذا میں طلبہ کے لئے کھانا تیار کرنے کے لئے مطبخ اور مطعم کی عمارت میں الگ سے دو منزلیں موجود اور خاص ہیں ۔ جس میں آج کل ایک وقت میں تقریباً 300 سو افراد کا کھانا پکتا ہے ، مختلف اجناس کے لئے کمرے الگ ہیں۔ جانور ذبح کرنے کا مستقل انتظام ہے اور جملہ انتظامات کے لئے دفتر ہے ۔طلبہ کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر جامعہ ادارہ میں اب ایک نیا مطبخ و مطعم تعمیر کرنے کے لئے جگہ خریدنے کامنصوبہ ہے،جہاں تمام طلبہ اجتماعی طور پر کھانا کھاسکیں گے۔
دو اسٹور بنائے گئے ہیں ایک کولڈ اسٹوریج ہے دوسرا خشک اشیاء کے لئے ہے، عملہ کے لئے مختلف کمرے اور دفاتر بنائے گئے ہیں، درمیان میں عملے کے لئے ایک مسجد تعمیر کی جارہی ہے۔ دو عدد لفٹوں کی جگہ بھی رکھی گئی ہے، ایک لفٹ میں آٹھ آدمی کھڑے ہوسکتے ہیں
مطبخ کا فی الحال عملہ ۲۷ افراد پر مشتمل ہے، جدید مطبخ میں تقریباً چالیس افراد کی ضرورت ہوگی۔ تخمینہ لاگت تقریباً اٹھارہ کروڑ روپے ہے۔ حال ہی میں حضرت رئیس الجامعہ مدظلہم اور اکابر اساتذہ کرام اور معزز مہمانانِ گرامی کی موجودگی میں افتتاح کیا جاچکا ہے۔