بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

خانقاہ دار الاحسان

خانقاہ دارالاحسان مختصر تعارف

خانقاہ احسانیہ امدادیہ چشتیہ

حضرت اقدس حافظ محمد صغیر احمد رحمتہ اللہ علیہ نے اس خانقاہ کی بنیاد  1985 میں رکھی ،  اپنے سلسلہ کی  ابتدا گھر کے تین ، چار لوگوں سے شروع فرمائی پھر ان   ذاکرین سے شروع ہونے والی مجالسِ ذکر کے اثرات بڑھتے گئے، فیض پھیلتا گیا اور ہزاروں لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی  محبت و عشق کی دولت نصیب ہوئی۔

سرپرستی

سرپرست علماء کرام اور اہل اللہ کی خانقاہ احسانیہ میں تشریف آوری کی فہرست

  • حضرت مولانا محمد یونس جونپوری رحمتہ اللہ علیہ شیخ الحدیث مظاہر العلوم سہارنپور

  • بھائی ابو الحسن صاحب خادمِ خاص حضرت شیخ الحدیث رحمتہ اللہ علیہ

  • حضرت مولانا محمد طلحہ کاندھلوی رحمتہ اللہ علیہ صاحبزادہ حضرت شیخ رحمتہ اللہ علیہ

  • حضرت مولانامحمد سلمان صاحب رحمتہ اللہ علیہ داماد حضرت شیخ رحمتہ اللہ علیہ

  • حضرت مولانا محمد یوسف متالا صاحب رحمتہ اللہ علیہ (انگلینڈ دارلعلوم)

  • حضرت مولانا عبدالحفیظ مکی رحمتہ اللہ علیہ

  • حضرت صوفی محمد اقبال رحمتہ اللہ علیہ خلیفہ خاص حضرت شیخ رحمتہ اللہ علیہ

  • حضرت مولانا محمد حسان صاحب رحمتہ اللہ علیہ کاتب حضرت شیخ رحمتہ اللہ علیہ

  • حضرت مولانا رحمت اللہ ہاشم صاحب کشمیری مدظلہ اللہ العالی

  • حضرت مفتی عبدالستار صاحب رحمہ اللہ صدر مفتی خیر المدارس

  • حضرت مولانا منظور احمد صاحب رحمتہ اللہ علیہ استاد الحدیث

  • حضرت مولانا محمد یحیٰ صاحب مدنی رحمتہ اللہ علیہ کراچی

  • حضرت مولانا عزیز الرحمٰن ہزاروی رحمتہ اللہ علیہ

  • حضرت مفتی سید مختار الدین صاحب مد ظلہ اللہ العالی

  • حضرت مولانا احسان صاحب (رائیونڈ)

اصلاحِ باطن و عشقِ الٰہی کی محنت اور مجالس ذکر و درود شریف کا قیام اور مختلف انداز سے خدمات درود شریف

  • ملک کے طول و عرض میں درود پاک کی کثرت اور اس کے اہتمام کے لیے مجالس و محافل کا قیام۔

  • گٹھلیاں، درودشریف کے بورڈ، کارڈ، کتابچہ چہل حدیث شریف و درود و سلام کی فراہمی کی جاتی ہے۔

  • اصلاحی بیانات و جمعہ بیانات کے لیے خانقاہی علماء کرام مختلف علاقوں میں جاتے ہیں۔

  • خانقاہی اعمال و معمولات سرانجام دیتے ہیں۔

مجالسِ ذکر و اصلاح

  • روزانہ بعد نماز ِ فجر مجلس چہل حدیث شریف، مجلس ذکر۔

  • بروز جمعہ بعد نمازِ عصرتا بعد مغرب مجلس ذکر، بیان / تعلیم و دعا۔

  • ماہانہ پروگرام ہر چاند کی پہلی جمعرات کو عصر سے جمعہ کی مغرب تک ۔

  • رمضان المبارک کا پورا مہینہ اعتکاف و بیعت و ارشاد و خانقاہی معمولات کے لیے مختص ہے۔

  • روزانہ بعد نماز ِ عشاء ایمان و اعمال سے متعلق احادیث کی روشنی میں تعلیم۔

  • روزانہ بعد نمازِ عصر اصلاحِ معاشرہ سے متعلق آداب کی تعلیم۔

مجالس درود شریف

  • ہر پیر بعد نمازِ عشاء۔

  • ہر جمعرات بعد نمازِ عشاء۔

  • ہر جمعہ بعد نمازِ جمعہ۔

  • حضرت شیخ الحدیث مولانا زکریا صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے روحانی سلسلہ کا خاص امتیاز ہے کہ درود شریف کا اہتمام کیا اور کرایا جاتا ہے۔

اب ہم کیا کریں ؟ ( لائحہ عمل)

برادران ِ مکرم و اکابرین محترم  کے طریق اور حکم کے مطابق یہ چند سطور ہم سب خدام و متوسلین کے لیے پیش ِ خدمت ہیں

  • فوراً تجدید ِ بیعت کرلی جائے یا کم از کم استخارہ شروع فرمادیں۔ ( جن سے مناسبت ہو اور رسائی ، رابطہ ممکن ہو، اس خلاء کو فوراً پر کرنے کی طرف پیش قدمی فرمائیں، ہمارے حضرت شیخ الحدیث نوراللہ تعالیٰ مرقدہ نے ایک جگہ تحریر فرمایا" بھیڑیا اکیلی بکری کو کھا جاتا ہےاور آدمیں کا بھیڑیا شیطان ہے"۔

  • انتہائی تواضع اور عاجزی اختیار کریں اور ان خصلتوں ( تکبر، غرور، اپنی رائے کو بڑا سمجھنا اور اپنی مرضی سے زندگی گزارنا) سے بچتے ہوئے فکرِ آخرت کے ساتھ اپنی زندگی کے لمحات کو قیمتی بنانے کی کوشش کرتے رہیں( اور حضرت شیخ الحدیث نوراللہ تعالیٰ مرقدہ کے رسالہ نسبت و اجازت کو مطالعہ میں رکھیں)

  • حضرت جی رحمتہ اللہ علیہ کا مرتب کردہ کتابچہ ابتدائی معمولات اور دیگر کتب کو زیر مطالعہ رکھیں اور زیادہ سے زیادہ عمل کی کوشش کرتے رہیں، ذکر اور درود شریف کی پابندی خوب خوب کریں بالخصوص 7 مرتبہ منزل روزانہ حسب و ہدایت اور درود شریف کے دونوں مجموعے( چہل حدیث کامقبول وظیفہ اور صلوٰۃ و سلام علی سید الانام) نیز بارہ تسبیح ذکر بالجہر ( جن کو اجازت ملی ہوئی ہے، باقی حضرات مسنون تسبیحات) کا اہتمام رکھیں۔ ان کے علاوہ تلاوت قرآن پاک کو لازم پکڑیں۔

  • موت کو دل سے یاد رکھیں اور زبان سے درود شریف کی کثرت کریں، دراصل ہمارے دادا پیر حضرت شیخ الحدیث صاحب نور اللہ مرقدہ کی یہ ایک مختصر و جامع نصیحت اور وصیت تھی جس پر ہمارے حضرت جی نور اللہ مرقدہ نے کماحقہ عمل کرکے دکھادیا۔ کہ درود شریف کا خصوصی اہتمام تو شہرہ آفاق ہے ہی تاہم حضرت رحمتہ اللہ علیہ کی زندگی بھی اس کی شاہد عدل ہے کہ حضرت سفر آخرت کے لیے ہر وقت تیار رہتے تھے حتٰی کہ اپنا کفن تک منگوا کر اور ہدایات لکھوا کر حوالہ کردیا تھا۔ طیب اللہ ثراہ جعل الجنۃ مثواہ

  • اپنی اور اپنے سے متعلق لوگوں بشمول اولاد و اہل ِ خانہ اور عزیز و اقارب کی دین داری کی فکر کرتے رہیں۔

  • اہل حق علماء و مشائخ سے رابطہ رکھیں اور اپنی اصلاح کی فکر میں آخری سانس تک لگے رہیں، معاملات کی صفائی ، حقوق العباد کی آدائیگی کی فکر رکھیں اس کا معاملہ اللہ کے یہاں شدید ہے۔ مکمل دین کے پانچ اجزاء جو حضرت تھانوی رحمتہ اللہ علیہنے تحریر فرمائے تھے وہ عبارت ہمارے حضرت جی رحمتہ اللہ علیہکو بہت پسند تھی۔ یعنی مکمل دین کے پانچ اجزاء ہیں: ۱۔ عقائد،۲۔عبادات کی صحت، ۳۔ اخلاق باطنی کی اصلاح، ۴۔ معاملات کی صفائی، ۵۔ آداب معاشرت کی رعایت۔

  • سلسلہ کے مشائخ کو ایصال ثواب روزانہ پابندی سے کرتے رہیں، بالخصوس اپنے حضرت رحمتہ اللہ علیہ کو جانی ، مالی ایصال ثواب میں ہمیشہ یاد رکھیں۔

  • کام کے پھیلاؤ ( یعنی بہت زیادہ مجمع اور مراکز کی فکر) کی بجائے گہراؤ یعنی شرعی طریقوں ( احکام ) ، سنتوں اور تعلیم و تربیت کا خاص خیال رکھا جائے یہی طرز ہمارے حضرت جی نور اللہ مرقدہ کا ہمیشہ رہا۔ دراصل یہ نصیحت بھی ہمارے دادا پیر حضرت شیخ الحدیث نور اللہ مرقدہ کی تھی، پیارو! کام کے پیلاؤ سے زیادہ گہراؤ کی فکر کرنی چاہیے۔ اور ہمارے حضرت صوفی محمد اقبال ﷫نے بھی اپنی وصایا میں اس کو خاص طور پر ذکر فرمایا تھا۔

  • حضرت جی رحمتہ اللہ علیہ کے مرکز میں حاضری دیتے رہیں اور مجالس و اجتماعات میں حتی المقدور اپنے دوست احباب کے ساتھ شرکت کی کوشش کرتے رہیں۔

  • آخری گزارش: برادران ِ طریقت پر شفقت ، ان کی خدمت اور حضرت ﷫کے کام میں لگے رہنے کی تاکید نیز حضرت ﷫کی تالیفات وغیرہ کی اشاعت کی کوشش اور رفع درجات کے لیے دعاؤں کی کثرت فرمائیں۔

  • اللہ تعالیٰ آپ کو اور ہمیں صدقہ جاریہ بنائیں، حضرت جی قدس سرہ العزیز کے علوم ، معارف اور فیوض کو عالم میں عام و تام فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایمان کی سلامتی اور فتنوں سے حفاظت نصیف فرمائیں۔ آمین

  • ملحوظہ نمبر ۱۔ حضرت قدس سرہ کی دیگر ہدایات و نصائح ان شاءاللہ سوانح عمری میں آجائیں گی۔

  • ملحوظہ نمبر ۲۔ یہاں ایک صروری امر یہ ہے کہ بڑوں کو دیکھ لینے والی نظر چھوٹوں ( بعد والوں کو ) زیادہ وقعت نہیں دیتی، مگر یاد رکھیں کہ پھر ایسے بھی نصیب نہیں ہوں گے۔ ( حضرت شیخ الحدیث نور اللہ مرقدہ اور حضرت صوفی اقبال رحمتہ اللہ علیہاس مضمون کو بہت بیان فرما یا کرتے تھے) اصل ہادی مطلق اللہ جل شانہ کی پاک ذات ہے ، وہ ہمیشہ سے ہے ہمیشہ رہنے والا ہے، سب کو دیکھتا بھی ہے اور سب کی سنتا بھی ہے مگر عادت اللہ اسی طرح جاری ہے کہ چراغ سے چراغ جلایا جاتا ہے اور حکم بھی یہی ہے کہ باضابطہ واسطے اور وسیلے کی ضرورت ہوتی ہے۔

فہرست خلفاء و مجازین

  • محترم جناب محمد ذکاءاللہ صاحب (خانقاہ احسانیہ امدادیہ چشتیہ، چوبرجی ، لاہور)

  • محترم جناب محمد نصرت اللہ صاحب (خانقاہ احسانیہ امدادیہ چشتیہ، چوبرجی ، لاہور)

  • حضرت مولانا شبیر احمد صاحب (جامعہ معارف اسلامیہ میاں ٹاؤن، رحیم یار خان)

  • حضرت مولانا محمد سعدا للہ صاحب (جامع مسجد مدنی۔ آدم ٹاؤن نارتھ کراچی)

  • حضرت مولانامفتی انیس احمد صاحب مظاہری( خانقاہ احسانیہ امدادیہ چشتیہ، چوبرجی ، لاہور)

  • حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہ العالی( جامعہ دارالعلوم کراچی)

  • محترم جناب ڈاکٹر عبدالشکور صاحب ( کوٹ اددو)

  • محترم جناب حافظ محمد خلیل احمد صاحب ( خانقاہ احسانیہ امدادیہ چشتیہ، چوبرجی ، لاہور)

حضرت جی رحمتہ اللہ علیہ کے وہ خلفاء جو وفات پاچکے ہیں

  • حضرت الحاج شیخ احمد الدین رحمتہ اللہ علیہ (چوبرجی ، لاہور)

  • حافظ حبیب احمد شہید رحمتہ اللہ علیہ (خانقاہ احسانیہ امدادیہ چشتیہ ، چوبرجی ، لاہور)

  • حافظ رشید احمد شہید رحمتہ اللہ علیہ (خانقاہ احسانیہ امدادیہ چشتیہ، چوبرجی ، لاہور)

  • حضرت سید زین الہادی رحمتہ اللہ علیہ سابق رکن شوری تبلیغی مرکز رائیونڈ)

  • حضرت مولانا عبدالغفار صاحب رحمتہ اللہ علیہ( کبیر والہ۔ مدفون: جنت البقیع مدینہ منورہ)

  • حضرت مولانا غلام نبی رحمتہ اللہ علیہ (بھکر)

  • حضرت محمد شیر افضل رحمتہ اللہ علیہ (امریکہ)

اوپر تک سکرول کریں۔