تعارف جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ
جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ
تعلیم و تربیت کا منفر مرکز
تاسیس و قیام
برکۃ العصر قطب الاقطاب شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا صدیقی کاندھلوی مہاجر مدنی رحمۃ اللہ علیہ کے اجل خلیفہ مردِ راہ حق حضرت الحاج حافظ محمد صغیر احمد رحمۃ اللہ علیہ نے شوال مکرم ۱۴۲۱ ھ میں قائم فرمایا ۔ دو طالب علموں سے درسِ نظامی کا آغاز ہوا ۔ حضرت شیخ الحدیث کے اجل خلفاء تاسیسی تقریب میں شریک ہوئے۔ آج ۲۴سال بعد درجہ اولیٰ سے شروع ہونے والا مدرسہ اولی تا دورہ حدیث، تخصص فی الافتاء وعلوم الحدیث سمیت کئی تعلیمی شعبہ جات کا آغاز کر چکا ہے۔
تعلیمی شعبہ جات
شعبہ درسِ نظامی:
درجہ اولی تا دورہ حدیث وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے نظام و نصاب کے مطابق تعلیم اس شعبہ کا لازمہ ہے ۔تقریبا 150 طلبہ اس شعبے میں زیر تعلیم ہیں۔ ہر سال وفاقی امتحانات میں طلبہ نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔نتیجہ 100 فیصد ہوتا ہے ۔فللہ الحمد والشکر علی ذالک۔
شعبہ تحفیظ:
یہ شعبہ 1984ء سے ہی قائم ہے فی الوقت 5 درسگاہوں میں 250 سے زائد طلبہ اس کا حصہ ہیں۔ اس شعبے میں صرف مقامی طلباء کا داخلہ ہوتا ہے۔ شہر بھر کے سینکڑوں حفاظ اس شعبہ کا لائقِ تحسین سرمایہ ہیں۔
درس نظامی کی نصابی تعلیم کے ساتھ ہی قرآن مجید تجوید کے مطابق پڑھایا جاتا ہے ۔حدر ،مشق، روایت حفص کے بعد سند تجوید جاری کی جاتی ہے ۔اس شعبے کی سرپرستی و نگرانی معروف ماہر مجود قاری احسان اللہ فاروقی صاحب فرما رہے ہیں۔
تخصص فی الافتاء:
بانی و صدر جامعہ کی دیرینہ خواہش کی تکمیل2014 میں ہوئی۔ وطن عزیز کے مایہ ناز مفتیان کرام کی سرپرستی و نگرانی میں حزم و احتیاط اور تحقیق کے اعلی معیار پر درالافتاء کا قیام عمل میں آیا ۔ساتھ ہی فقہ وافتاء کے ماہرین تیار کرنے اور معاشرتی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے تخصص فی الافتاء کا بھی اجرا ہوا۔ اب تک بیسیوں فضلاء دورہ حدیث اس شعبے سے دو سالہ تخصص فی الافتاء کر کے سند فراغ حاصل کر چکے ہیں ۔فقیہ وقت حضرت مولانا مفتی جمیل احمد تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے معتمد و تربیت یافتہ خصوصی شاگرد حضرت مولانا مفتی انیس احمد مظاہری مدظلہ رئیس اور شیخ الاسلام حضرت مفتی تقی عثمانی مدظلہ کے تلمیذ رشید حضرت مولانا مفتی افتخار بیگ صاحب حفظہ اللہ نائب رئیس ہیں۔
شعبہ تحسین الخط:
ایک دیرینہ تمنا تھی کہ یہاں سے پڑھ کر جانے والے ہر طالب علم کی تحریر عمدہ ہونی چاہیے۔ ابتدا سے ہی اس کا مکمل نظم رہا ۔مستقل شعبہ آج بھی قائم ہے۔ ماہر تجربہ کار اور مشاق استاد محترم کی خدمات اس شعبے کو حاصل ہیں۔ سالانہ وفاقی امتحان اور دیگر مواقع پر ملاحظہ کرنے والے حضرات نے نہایت داد و تحسین سے نوازا ہے۔ درجہ ابتدائیہ تا ثانویہ عامہ لازمی جبکہ فوقانی درجات میں اختیاری مضمون کے طور پر نصاب کا حصہ ہے۔
عصری تعلیم:
احوال زمانہ اور درس نظامی کے ابتدائی خواہشمند طلبہ کو بنیادی عصری تعلیم فراہم کرنے کے لیے درجہ اولی سے قبل پانچ سال میں میٹرک کروائی جاتی ہے ۔اس شعبے کے نگران حضرت بانی و صدر جامعہ رحمہ اللہ کے فرزند محترم جناب حافظ خلیل احمد صاحب حفظہ اللہ ہیں جو اکابر کی سوچ و فکر کے عین مطابق طلبہ کی فکری و نظریاتی آبیاری کر رہے ہیں۔
انتظامی شعبہ جات
مظبخ:
رہائشی طلبہ کے لیے خوردو نوش کا مکمل انتظام جامعہ کی طرف سے ہوتا ہے ۔بحمدللہ یوم تاسیس سے ہی بانی و صدر جامعہ قدس سرہ نے مہمانان رسول کے اکرام میں اس مد کو غیر زکوٰتی قرار دے کر آغاز فرمایا تھا۔ تمام طلبہ کو دو وقت کا معیاری کھانا اور بہترین ناشتہ۔ نیز مریض طلبہ کو ہمہ وقت پرہیزی کھانا بھی فراہم کیا جاتا ہے۔ اس شعبے کے نگران و ذمہ دار جامعہ کے استاد الحدیث حضرت مولانا امیر احمد حفظہ اللہ ہیں۔ جبکہ جامعہ کے فاضل مولوی عبدالرؤف صاحب حفظہ اللہ معاون ہیں۔
مالیات:
جامعہ کا سالانہ بجٹ دو کروڑ روپے سے متجاوز ہے ۔یوٹیلٹی بلز، رہائشی طلبہ کے لیے خوردو نوش، اساتذہ کرام و کارکنان کے مشاہرات مستقل مدات ہیں۔ بحمدللہ اکابر کی نسبتوں کے امین ادارے میں امت المسلمین کے عطیات کی ایک ایک پائی کا مکمل حساب رکھا جاتا ہے اور مدات کی تصریح کے ساتھ نہایت احتیاط سے خرچ کیا جاتا ہے۔ اس کے ذمہ دار محترم جناب الحاج شیخ محمد سلیم صاحب زیدمجدہ ہیں ۔
کتب خانہ:
پندرہ ہزار سے زائد کتب پر مشتمل یہ کتب خانہ اندراج و اجرا کے مضبوط نظام کے ساتھ ہر صاحبِ ذوق کے لیے لائق دید و استفادہ ہے۔ سالانہ پڑتال ،کتب کی حفاظت ،نادر و نایاب نسخوں ،مخطوطوں اور کتابوں کی فراہمی سے یہ مکتب نہایت قیمتی خزانہ بن گیا ہے۔
دارالافتاء:
عامۃ المسلمین کی دینی وشرعی رہنمائی کے لیے مستند مفتیان کرام کی نگرانی میں یہ شعبہ مصروف عمل ہے ۔بالمشافہ، تحریری اور زبانی ہر طرح سے دینی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
علوم الحدیث:
جامعہ کا انتساب جس عظیم ہستی کے ساتھ ہے ان کی اور جملہ اکابر علمائے دیوبند قدس اللہ اسرارہم کی خدمات حدیثیہ کو اجاگر کرنا ۔نیز قحط الرجال کے دور میں رجال حدیث اور علم حدیث کی آبیاری اس شعبے کا بنیادی مقصد ہے ۔اکابر کی وقیع تصنیفات پر اس شعبے میں تخریجی ،تصنیفی اور تحقیقی کام شبانہ روز جاری ہے۔ مضبوط اصحابِ علم پر مشتمل جماعت اس کا نظم سنبھالے ہوئے ہے۔
شعبہ کمپیوٹر:
تخصص کے تمام اور درسِ نظامی کے چنیدہ طلبہ کو اس کے تحت کمپیوٹر کی ضروری تعلیم دی جاتی ہے۔ جامعہ کے تمام اشاعتی امور یہ شعبہ سر انجام دیتا ہے ۔دعوت نامے ،اشتہارات ،تحریرات و تصنیفات کی کمپوزنگ ڈیزائننگ اسی شعبے سے انجام پاتی ہے۔ جامعہ کے قدیم استاد مولانا محمد صاحب حافظہ اللہ اس کے نگران و ذمہ دار ہیں۔
فیض شیخ ٹرسٹ:
ملک کے طول و عرض میں حادثاتی حالات میں مخلوق ِخدا کی دادرسی اور خدمات کے لیے 2010 ءمیں بانی و صدر جامعہ نے اپنے شیخ و مرشد کی طرف منسوب یہ ادارہ قائم فرمایا۔ سیلاب 2010ء، لاک ڈاؤن کرونا وائرس 2020 ء،اور سیلاب 2022 ءمیں بانی و صد ر جامعہ رحمہ اللہ اور ان کے فرزند مولانا مفتی انیس احمد مظاہری مد ظلہ بنفسِ نفیس شریک ہو کر عامۃ المسلمین کی امانتیں مستحقین تک پہنچاتے رہے۔ عذرو علالت کے باوصف ہر دو حضرات نے اسفار فرمائے اور میدان ِعمل میں اتر کر نہایت محنت و جان فشانی سے خدمات سر انجام دیں۔
مجلس منتظمہ وسر پرستان :
بحمدللہ روز اول سے ہی اکابر قدس اللہ اسرارہم کے مسلک و مشرب اور منہج کے عین مطابق مدرسہ کا مکمل نظام شورائی ہے۔ اصحاب ِقلوب اور اہل اللہ پر مشتمل 12 رکنی جماعت ادارے کی باقاعدہ مجلس منتظمہ ہے ۔ہر ماہ مشورہ اور فیصلوں کی منظوری یہی جماعت دیتی ہے۔
لطف بلائے لطف یہ کہ اس جماعت پر عالم اسلام کے چنیدہ اہل اللہ اور مشائخ عظام علماء کرام کا ہاتھ ہے۔ یہ مجلس سرپرستان ہے اس میں حضرت شیخ الحدیث نور اللہ مرقدہ کہ ممتاز خلفاء و متوسلین اور منتسبین کی با اختیار شمولیت قابل ذکر ہے ۔حضرات سرپرستان کا سالانہ اجتماع بھی انعقاد پذیر ہوتا ہے ۔خدمات کا مشاہدہ اور کارگزاری ملاحظہ فرما کر اہم امور کی منظوری دی جاتی ہے۔
خانقاہ احسانیہ امدادیہ چشتیہ
حضرت بانی وصدر جامعہ رحمہ اللہ نے اپنے شیخ و مرشد کے علوم و معارف کے فیضان اور علوم ظاہر کے حصول کے لیے جہاں جامعہ احسان القران والعلوم النبویہ کی صورت میں ایک معیاری ادارہ قائم فرمایا وہاں باطن کی اصلاح و تزکیہ کے لیے خانقاہ بھی قائم فرمائی جہاں آپ کے سینکڑوں مریدین و متوسلین نے راہ سلوک کو طے کیا ۔جامعہ کے بھی متعدد طلباء نے زمانہ طالب علمی میں ہی حضرت نور اللہ مرقدہ سے اصلاحی تعلق قائم کر کے دل کی دنیا یاد الہٰی سے آباد کی۔ حضرت قدس سرہ کے وصال کے بعد آپ کے خلف الرشید اور جامعہ کے شیخ الحدیث حضرت مولانا مفتی انیس احمد مظاہری مدظلہ اس مبارک سلسلے کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ہر قمری ماہ کی نوچندی جمعرات کا اجتماع، یومیہ وہفتہ واری مجالس ذکر و درود شریف سے بحمداللہ خانقاہ آباد رہتی ہے ۔رمضان المبارک میں اکابر کے منہج کے مطابق پورے ماہ کا بالخصوص آخری عشرے کا مسنون اعتکاف یقینا لائقِ دید ہوتا ہے۔
شاخ ہائے جامعہ
جامعہ احسان القران والعلوم النبویہ شاخ سگیاں تاج کمپنی چوک بند روڈ لاہور۔
مدرسہ اشرف القران بلال گنج سمیت دار جدید اور دارالاقامہ کی امارات میں بھی جملہ تعلیمی امور با حسن وجوہ سر انجام دیے جا رہے ہیں۔
جملہ اصحاب خیر سے استدعاء ہے کہ تعلیم و تربیت کے سفر میں نسلِ نو کے ایمانوں کی حفاظت و سلامتی، بقاء و ترقی کی نیت سے ادارے کو یاد رکھیں ۔قوی امید ہے کہ آپ کی محبتوں اور تعاون سے جیتی جاگتی دنیا میں تا صبحِ قیامت علوم نبوت سے امت محمدیہ نفع حاصل کرتی رہے گی اور ہم سب کے لیے ثواب و صدقہ جاریہ بنے گا ۔