خدمتِ خلق
فیض شیخ ٹرسٹ پاکستان
تعارف و خدمات
قدرت کے مظاہر میں سے ایک حادثہ ۱۴۳۱ ھ /2010ء کے موسم برسات میں سیلاب کی صورت میں ظاہر ہوا ۔ ملک بھر میں بالخصوص جنوبی پنجاب پوری طرح لپیٹ میں آگیا۔ ایک طرف مسلمانوں کے جان و مال کا نقصان ہوا تو دوسری طرف اصحابِ خیر کو باقی ماندہ کی اعانت و امداد کا موقع میسر آیا۔ اللہ کریم ہر ایک کو نیت کے مطابق اس کا ثمرہ عطافر مائے ۔ آمین
بانی جامعہ حضرت الحاج حافظ صغیر احمد رحمتہ اللہ علیہ، خلیفہ مجاز شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا صدیقی کاندھلوی مہاجر مدنی رحمتہ اللہ علیہ کو یہ فکر نصیب ہوئی کہ ان متاثرین کی ہر رخ سے مالی امداد کے ساتھ متأثرہ ان علاقوں میں شہید مساجد کی تعمیر نو ، آباد کاری ومکاتب قرآن کریم کوعام کرنے اور قلوب میں نبی اکرم صل اللہ علیہ وسلم کی محبت اجاگر کرنے کی غرض سے امت میں درود شریف کی کثرت و اہتمام کے لیے مختلف جہت سے کوشش کی جائے جو کہ بحمد اللہ ابتک جاری وساری ہے اور علاقے میں بہترین نتائج ظاہر ہو رہے ہیں۔ حضرت جی رحمتہ اللہ علیہ نے خلق خدا کی اس عظیم الشان خدمت کی انجام دہی کے لیے اپنے مرشد حضرت شیخ الحدیث رحمتہ اللہ علیہ کی نسبت پر ” فیض شیخ ٹرسٹ ” کے نام سے ایک رفاہی ادارہ قائم فرمایا اور تمام قانونی تقاضوں کے مطابق اس کو رجسٹرڈ کرایا۔
مکاتب قرآنیہ کا قیام
بحمد الله رحیم یار خان و مضافات اور کچے کے علاقے میں دور دراز کی بستیوں میں 10 مکاتب قرآنیہ قائم ہیں ۔ وادی نیلم آزاد کشمیر کے علاقوں شاردہ ، خواجہ اور شرگن میں بھی یہ سلسلہ جاری و ساری ہے ۔ رحمان سٹی سگیاں لاھور کی جامع مسجد احمد حسن میں بھی ایک مکتب قائم ہے۔ تینوں جگہ حضرت جی نور اللہ مرقدہ کے معتمدین و مجازین اور تربیت یافتگان نظم سنبھالے ہوئے ہیں ۔ ہر ماہ با قاعدگی سے جائزہ لے کر رپورٹ مرکز میں ارسال کی جاتی ہے۔ اجتماعی طور پر سورہ یٰسین اور ہفتہ میں 2 یوم مجالس درود شریف کا اہتمام رہتا ہے جس سے اہلِ علاقہ پر رحمتِ الٰہی کا نزول عیاں ہے ۔ معاشرے کی شرح خواندگی میں اضافے کے لیے فیض شیخ ٹرسٹ ہر وقت کو شاں ہے۔
سفر ترکی اور شامی مہاجرین کی امداد
بفضل اللہ وکرمہ ٹرسٹ کے زیر اہتمام وانتظام اندرون وبیرون ملک حادثاتی صورتحال (سیلاب، زلزلہ) کے موقع پر امدادی خدمات کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ اراکین ٹرسٹ کی زیر نگرانی اصحاب خیر سے جو بھی عطیات جمع ہوتے ہیں میں انہیں بر وقت مستحقین و متاثرین تک پہنچانے کے لیے نہ صرف رضا کار میدان عمل میں اُترتے ہیں بلکہ مرکزی منتظمین حضرات بھی بنفسِ نفیس امدادی و رفاہی سر گرمیوں کو مانیٹر کرتے ہیں۔
گزشتہ سالوں شام کے مظلوم مسلمان جب حادثاتی حالات سے دو چار ہوئے تو برادر اسلامی ملک ترکی نے جہاں مظلوموں کو چھت فراہم کی اور بھر پور داد رسی کی وہاں اسلامی جمہوریہ پاکستان سے فیض شیخ ٹرسٹ کی منتظمہ نے بھی خبیب فاؤنڈیشن کی وساطت سے خدمات انجام دیں چنانچہ اسی سلسلے میں مئی 2017 ء میں حضرت مولانا مفتی انیس احمد مظاهری زید فضلہ سرپرست ٹرسٹ ہذا نے ترکی کا سفر فرمایا اور پاکستان کی بھرپور نمائندگی کی۔
حضرت مفتی صاحب زید فضلہ نے تشریف لے جاکر بدست خود متاثرہ اشراف خاندانوں و دیگر شامی مہاجرین میں نقدی، راشن اور دیگر صورتوں میں امداد تقسیم فرمائی۔ تالیف قلب کے ساتھ مہاجرین و مظلومین کی دلجوئی، اشک شوئی بھی فرمائی۔
اسی طرح برما کے مظلوم مسلمانوں کے ساتھ پیش آنے والے احوال ہوں یا حالیہ دنوں میں غزه و فلسطین اور مسجد اقصی کے باسیوں پر جب کڑا وقت آیا جہاں دنیا بھر سے امت مسلمہ نے امداد اور تعاون کے لیے ہاتھ بڑھایا وہاں حسب روایت فیض شیخ ٹرسٹ نے بھی اعانت دادرسی اور مظلومين ومستحقین کی امداد کا بھر پور سلسلہ جاری رکھا ۔
سیلاب2022
اگست 2022ء میں وطن عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان ایک بار پھر سیلاب کی تباہ کاریوں کا شکار ، کوہ ِسلیمان کے ندی نالے بپھرنے سے اور کو ہیوں کا پانی ایک طرف جنوبی پنجاب کی درجنوں بستیوں اور سینکڑوں کو بہا کرلے گیا تو دوسری طرف اندرون سندھ اور بلوچستان میں بھی انسانیت اپنی بقاء کی جنگ لڑرہی تھی ۔ بھوک و افلاس ، بے سرو سامانی ، اپنی چھتوں کے چھن جانے سے ہزاروں خاندان بے خانماں ہو گئے۔ کسی کے لخت جگر پانی کی نذر ہوئے تو کسی کا سامان ،تیار فصلیں تباہی سے دوچار ہوئیں۔
ایسی ناگہانی صورت حال میں بھی فیض شیخ ٹرسٹ کے رضا کار میدان عمل میں اترے۔ اصحابِ خیر نے حسب روایت بھر پور اعتماد سے نوازا ۔ منتظمہ کے اہم ارکان بنفس نفیس متاثرہ علاقوں میں تشریف لے گئے۔ امدادی کاروائیوں کی نگرانی ، مستحقین و متاثرین تک پہنچائیں مرحلہ وار ہنگامی ریلیف آپریشن ہوئے۔ پہلے مرحلے میں خشک راشن، دوسرے مرحلے میں ادویات و بستروں اور دیگر ضروریات زندگی کی اشیا پر مشتمل پیکیج تقسیم کیے گئے جبکہ تیسرے مرحلے میں دیگربعض کلی وجزوی مکانات کی تعمیر، خیمہ مساجد کا قیام اور پانی کے بوروں کی تنصیب عمل میں آئی۔ کراچی کے ذمہ داران نے اندرون سندھ اور بلوچستان کے اضلاع کو ہدف بنایا ، لاہور سے جنوبی پنجاب بالخصوص تونسہ شریف میں امدادی سرگرمیاں جاری رہیں ، رحیم یار خان کے احباب نے راجن پور جام پورصادق آباد کے متأثرہ اضلاع کو میدان عمل بنایا۔ ایک ایک پائی بفضل اللہ وتوفیقہ حقداروں تک پہنچانے کی بھر پو ر سعی کی گئی ۔ حساب کتاب کی جانچ پر کھ اور پڑتال کا مضبوط نظام قائم کیا۔ اللہ کریم نے سرخرو فرمایا الحمد للہ۔
وقف قربانی
گزشتہ کئی سالوں سے بحمد اللہ ٹرسٹ کے زیر انتظام رحیم یار خاں ومضافات اور آزاد کشمیر وشمالی علاقہ جات سمیت لاہور کے مضافات میں وقف قربانی کا اہتمام کیا جارہا ہے جس کا گوشت عوام الناس ، غرباء، فقراء ،ضعفاء ومساکین اور ٹرسٹ کے تحت قائم مکاتب قرآنیہ کے اساتذہ و طلبہ میں تقسیم ہوتا ہے۔ کراچی میں ٹرسٹ کے نگران اعلیٰ حضرات مولانا محمد سعداللہ صاحب، رحیم یار خان و مضافات میں حضرت مولانا شبیراحمد صاحب۔ آزاد کشمیر میں مولانا اعجاز احمد اشرفی صاحب اپنے رفقا و معاون جماعت کے ساتھ خدمت کے اس عظیم عمل کو سرانجام دیتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ سب کی خدمات، کوششوں اور تعاون کو قبول فرمائیں۔
واٹر فلٹریشن پلانٹ
الحمد لله اصحاب خیر کے تعاون سے جامعہ نے 2 مقامات پر پینے کے صاف شفاف اور میٹھے پانی کے لیے واٹر فلٹریشن (آر –او)پلانٹ نصب کیے ہیں ۱ ۔ بالمقابل جامع مسجد احسان ۲۔ جامعہ صدیقیہ سگیاں لاہور۔ ہر دو مقامات پر یومیہ سینکڑوں افراد ، گھرانے پینے کے صاف اور میٹھے پانی سے مستفیدہوتے ہیں ۔ دونوں جگہوں پر 24 گھنٹے کی سروس دستیاب ہے ۔حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق صاف اور محفوظ پانی تمام لوگوں کا حق ہے ۔ پانی اللہ کی طرف سے عظیم نعمت ہے جو زندگی کی بقا کے لیے از حد ضروری ہے ۔ جامعہ نے اس بنیادی ضرورت کا ادر اک کرتےہوئے اہلِ خیر کے تعاون سےخدمت خلق کے لیے (آر –او) پلانٹ لگو اکر صدقہ جاریہ کا اہتمام کیا۔
فری ڈسپنسری
جامعہ احسان القرآن کی شاخ جامعہ صدیقیہ سگیاں لاہور میں قرشی کمپنی کے تعاون سے فری ڈسپنسری گزشتہ 9سال سے قائم ہے ۔جہاں ابتدائی طبی معائنہ ، مختلف ادویات مفت فراہم کی جاتی ہیں ۔ مختلف مواقع پر میڈیکل کیمپ لگا کر ماہر ڈاکٹروں کے تعاون سے اہلِ علاقہ کی طبی خدمت کی جاتی ہے ۔ یومیہ بیسیوں غرباء ،ضعفاء ،مستحقین اس ڈسپنسری سے مستفید ہو تےہیں ۔ الحمد للہ
ضروریات، اہداف اور تقاضے
فیض ِ شیخ ٹرسٹ کی منتظمہ فلاحِ انسانیت کے اس سفر میں آپ کی دامے، درمے ، سخنے تعاون چاہتی ہے تاکہ دیے سے دیا اور چراغ سے چراغ جلتا رہے روشن رہے، انسانیت کی خدمت کا یہ سفر رنگ و نسل ، زبان ، مذہب اور قومیتوں کے بندھن سے آزاد رہے۔
دکھی انسانیت کا سہارا بننا ، عامی فلاح و بہبود کے جاری تمام منصوبہ جات کو باقی اور جاری رکھنا اصحابِ خیر کے تعاون اور اللہ جل شانہ کے خصوصی فضل و کرم کے بغیر ممکن نہیں۔
فیضِ شیخ ٹرسٹ کا سالانہ بجٹ فی الحال 3،150،000 روپے سے متجاوز ہے، ضرورتمندوں کا رجوع مزید شعبہ جات کا قیام چاہتا ہے، محدود وسائل کی وجہ سے مزید قدم نہیں اٹھایا جارہا۔
سرِ دست ٹرسٹ کے زیرِ انتظام ملنے والے تعلیمی اداروں کے کارکنان و ملازمین کے وظائف ، اسفار ، دفتری ضروریات، نشرواشاعت اور دیگر ہنگامی تقاضوں کے لیے خطیر رقم درکار ہے۔
اہداف:
1. تھرپارکر پلوچستان اور چولستان جیسے علاقوں میں صاف اور میٹھے پانی کی فراہمی کے لیے 50 عدد ۔۔۔
2. سیلاب ، زلزلہ سے متأثرہ علاقوں کے مکینوں کے لیے چھت ، مکانات کی تعمیر( کم از کم 30 گھر)
3. بیواؤں ، یتیموں، مسکینوں اور حاجت مندوں کے لیے ملازمت کے مواقع فراہم کرکے انہیں خود کفیل بنانا
4. رمضان المبارک میں سحری و افطاری کے فری دسترخوان لگانا
5. مہنگائی کے دور میں عوام الناس کو سستی لیب سہولیات اور مفت علاج فراہم کرنا۔ اس کے لیے لیب اور میڈیکل سنٹر کا قیام
فیض ِ شیخ ٹرسٹ
:مقصد / وژن
1. ریاست پاکستان میں غربت کے خاتمہ میں فعال کردار پیش کرنا
2. مسلمان کو اللہ کے راستہ میں خرچ کرنے اور اس کو بالادستی کے قابل بنانا
3. غریب و نادار مسلم بچوں و بچیوں میں مفت تعلیم کو پھیلانا اور اس کو عام کرنا
4. ہونہار طلباء وطالبات کو وظائف دینا اور اعلیٰ دینی ودینوی تعلیم کے لیے حوصلہ افزائی کرنا
5. بیماروں، ضعیفوں اور مختلف حاجت مندوں کی مالی امداد کرنا نیز کمزور اور بے سہارا لوگوں کی حسبِ گنجائش مالی تعاون کرنا
6. حادثات ، جنگ، سیلاب، زلزلہ یاکسی بھی اجتماعی آفت کی صورت میں متأثرین کا ہر ممکن امدادی کام کرنا
7. دائرہ شریعت میں رہتے ہوئے عام سماجی فلاح و بہبود کی خدمت انجام دینا۔ رحم دلی اور درد مندی کے ساتھ دیگر اہل ِمذاہب سے اخلاقی اور اسلامی سلوک و رواداری سے پیش آنا اور اسلامی اقدار کو امت پر اجاگر کرنا
8. خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے، معاشرے کے پسماندہ طبقات و افراد کی بہتری کے لیے اقدامات کرنا اور انہیں بنیادی اشیاء ضرورت و سہولیات فراہم کرنا ۔
9. غریب و نادار اور مستحق بچوں، بچیوں کی شادی میں حتی المقدور تعاون کرنا۔
:فنڈنگ کا طریقہ کار
ٹرسٹ اور اسکے ملحقہ ماتحت اداروں کی فنڈنگ ، آمدنی کا طریقہ حسب ذیل ہے۔
1. یکمشت خصوصی عطیات
2. ماہانہ یا سالانہ عطیات
3. اجلاسات منعقد ہونے کے مواقع پر وصول کردہ عطیات
4. صدقات واجبہ /نافلہ وغیرہ
5. خاص مقصد کے لیے دی جانے والی رقم کا خصوصی مد میں استعمال یقینی بنانا
6. ٹرسٹ کا تمام سرمایہ مقامی بینک( غیر سودی) میں جمع کرانا
7. رقم نکلوانے کے لیے چیک پر صدر کے دستخط لازمی ہیں ، اس کے علاوہ جنر ل سیکرٹری یا فنانس سیکرٹری کے دستخط کروا کر بینک سے رقم نکلوانا
8. ماہِ محرم میں سال گزشتہ کا آڈٹ کرنا اور آئندہ سال کا بجٹ تیار کرنا
9. تمام رقوم کی ادائیگی اور وصولی بذریعہ رسید کرنا
10. تمام آمدو خرچ کا رجسٹر میں اندراج کرنا اور اس پر صدر سے دستخط کروانا
11. سال کے آخر میں صدر ، جنرل سیکرٹری کی مقرر کردہ کمیٹی سے آڈٹ کروانا
ملحوظہ: بحمداللہ تعالیٰ ٹرسٹ کو حاصل ہونے والی تمام رقوم کے آمدو خرچ اور حساب میں شفافیت کو یقینی بنایا جاتا ہے اور متعین کردہ مصارف میں ہی استعمال کے لیے وسائل بروئے کار لائے جاتے ہیں، دن بدن اصحابِ خیر کا بڑھتا ہوا تعاون کا اعتماد کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
اکاؤنٹ نمبر: 02600102672144
تحریر: مولانا کلیم اللہ صاحب ( استاذ جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ لاہور)