انتظامی شعبہ جات
امتحانات
اللہ تعالیٰ نے اس جہاں کو دارالامتحان بنایا ہے۔ جو بھی بنی آدم اس دنیا میں آیا ہے یا آئے گا اس کو کئی امتحانات وابتلات سے گزرنا پڑے گا۔ یہی دنیا وآخرت کا مزاج بنایا گیا ہے۔سیدنا آدم ؑ کی فرشتوں پر فضیلت وبرتری ظاہر کرنے کے لیے فرشتوں کے امتحان کا ذکر ہے۔
دنیاوی معاملات میں انسان کو ترقی کے مراحل طے کرنے کے لیے اور اعلیٰ منصب پانے کے لیے امتحان سے گزرنا پڑتا ہے۔ ان امتحانات میں انسان جس قدر کامیابی حاصل کرے گا اسی قدر ترقی کرتا چلا جائے گا۔ مشہور عربی کہاوت ہے عندالامتحان یکرم الرجل اویھان عصری تعلیمی ادارے ہوں یا دینی ادارے ، ہر ادارے نے اپنے اپنے ضابطوں کے مطابق نظام امتحان قائم کر رکھاہے۔ اگر بنظر غائر دیکھاجائے تو ادارہ کی کامیابی کا دارومدار ہی اس ادارہ کے نظام امتحانات سے وابستہ ہوتا ہے، جتنا نظام امتحان مضبوط اتنا ادارہ کا معیار بلند اور مضبوط ہوتا ہے۔
دینی مدارس کے نظامِ امتحان ہونے کے ساتھ ساتھ مبنی بر دیانت وامانت رکھنے کی کوشش ہوتی ہے۔ اگر ایک طالب علم اصح الکتب بعد کتاب اللہ بخاری شریف کا پرچہ دے رہا ہے اور دوسری طرف ایک طالب علم اردو یا انگلش کی کتاب کا پرچہ دے رہا ہے تو دونوں کے اندر خود اعتمادی ، سنجیدگی، وقار، دیانت داری اور چیٹنگ سے اپنے آپ کو دور رکھنا آپ کو برابر نظر آئے گا اور یہ اس وجہ سے کہ طالب علم کے کے اندر خداخوفی اور اخلاق کی بلندی کو پیدا کرنے کی کوشش ہوتی ہے۔
جامعہ ہذا کا امتحانی نظم
مدرسہ میں تعلیم اور تربیت دونوں معیاری تعلیم کے لیے معیاری جانچ ضروری ہے۔اس لیے مدرسہ میں غیر وفاقی طلباء کے لیے تین امتحانات سہ ماہی/ششماہی اور سالانہ اور وفاقی طلباء کے لیے سہ ماہی اور ششماہی امتحان کا نظم بنایا گیا ہے۔ عموماً کتاب کا پرچہ غیر متعلقہ استاد بناتے ہیں۔ اور طالب علم کو جوابی کاپی پرکہیں بھی اپنا نام لکھنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ صرف رقم الجلوس لکھنا ہوتا ہے۔ اس عمل سے یہ فائدہ ہوتا ہے کہ پرچہ چیک کرنے والے استاد کے گمان میں دور تک بھی یہ بات نہیں ہوتی کہ میں فلاں طالب علم کا پرچہ چیک کررہا ہوں۔ دوران امتحان ہر طالب علم مدرسہ کی طرف سے مقرر کردہ نشست پر بیٹھنے کا پابند ہوتا ہے۔
مدرسہ کے امتحان مین جو طلباء ستر فیصد سے زیادہ نمبر لے کر کامیاب ہوتے ہیں ان کو جامعہ کی طرف سے خصوصی انعامات بصورت کتب و نقد دیے جاتے ہیں۔ اسی طرح درجہ سابعہ کے وہ طلباء جن کی مکمل سال حدیث شریف کے سبق میں کوئی ناغہ نہیں ہوتا ان کو صحاح ستہ کا سیٹ انعام میں دیا جاتا ہے۔
والحمدللہ ذالک