خدمتِ خلق
اجتماعی قربانی
اجمالی تعارف
یہ شعبہ خالصتاً غیر کاروباری، رفاہی، سماجی خدمت اور دینی فریضہ کی بخوبی سرانجام دہی کے لیے کام کرتا ہے۔ جامعہ احسان القرآن والعلوم النبویہ میں اجتماعی قربانی کاسلسلہ1432ھ 2011ء میں حضرت حافظ صغیراحمدصاحب نور اللہ مرقدہ کی سرپرستی میں شروع ہوا تھا،اوراب حضرت مفتی انیس احمد المظاہری دامت برکاتھم کی سرپرستی میں چل رہاہے، ہر سال اجتماعی قربانی میں شرکا کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ الحمد للہ اس سال 2024ء کے اجتماعی قربانی کے موقع پر ادارے نے بفضلہ تعالی تقریبا 315 شرکاء کی قربانی درست طریقہ سے انجام دینے کی سعادت حاصل کی ہے۔
اجتماعی قربانی کا بنیادی مقصد حضرت مئوسس جامعہ رحمتہ اللہ علیہ کی نظر میں
1. لوگوں کی قربانی کی حفاظت۔
2. چرمہائے قربانی کوصحیح مصرف پر لگانا، اس کا تحفظ۔
3. مسلمان بہن،بھائیوں کی خدمت سے،اور ان ضرورت مندوں کو بغیرمالی منفعت کے سہولت فراہم کرنا، جس کے ضمن میں بہت سے اخراجات ادارہ اہلِ خیر حضرات کے تعاون سے برداشت کرتا ہے۔یہی ہمارا مقصد ، مشن اور مخلوق ۔۔۔ کی خدمت کی کوشش ہے۔
4. عطیہ قربانی کے گوشت کو بیواؤں ، یتیموں ، سفید پوش لوگوں تک پہنچانا ۔
قربانی کامکمل شفاف طریقہ کار
1. رجسٹریشن اور بکنگ کا طریقہ کار۔
2. یکم ذوقعد ہ سے لےکر (۷)سات ذو الحج تک بکنگ ہوتی ہے ۔
3. شعائراللہ کی خریداری علماے کرام کی جماعت کرتی ہے،جس میں شرعی وطبی تقاضوں کابھرپورخیال رکھا جاتا ہے، نیزعلمائےکرام ہی کی نگرانی میں ایک جماعت یوم النحر تک شعائراللہ کی دیکھ بھال اور خدمت کرتی ہے،یہ سب انتظامات جیّدمستندمفتیانِ کرام کی طرف سے بنائے گئے معیارات و ہدایات کے مطابق انجام پاتےہیں ۔
4. عید کے پہلے ہی دن الحمد للہ تمام جانور ماہر قصاب کے ذریعے ذبح کرائے جاتےہیں ،اس عمل کی نگرانی بھی مفتیانِ کرام فرماتےہیں۔
مختلف کام جن کےلیے مختلف اور متعدد الگ الگ جماعتیں تشکیل دی جاتی ہیں۔
1. بکنگ کی جماعت۔
2. منڈی جاکر خریداری کی جماعت۔
3. دیکھ بھال کی جماعت۔
4. چارہ لانے کی جماعت۔
5. مذبح تک پہنچانےکی جماعت۔
6. ذبح کی نگرانی کی جماعت۔
7. گوشت کے حصے بنانے کی جماعت۔
8. تقسیم اور رابطے کی جماعت۔
9. حساب و کتاب کی جماعت۔
10. چرم قربانی سے متعلق جماعتیں الگ ہوتی ہیں۔
وقف قربانی کا مصرف
اسی طرح پسماندہ علاقوں میں ضرورت مند بھائیوں کے لیے وقف قربانی کاسلسلہ بھی تین سال سے چل رہا ہے۔اس عنوان سے الگ عطیہ قربانی وصول کی جاتی ہے۔
مالیات وحسابات اور شرعی تقاضے:
مالیاتی نظام انتہائی شفافیت کاحامل ہے ،جو اس شعبے کا طرہ امتیازہے،پائی پائی کا حساب رکھاجاتا ہے ،رقم بچ جانے کی صورت میں واپس کی جاتی ہے ،اسی طرح جانور کی بوٹی دوسرے جانور سے نہیں ملتی ،اور جانور کے پائے وغیرہ دوسرے جانور کے ساتھ نہیں ملنے دیے جاتے۔
فیض ِ شیخ ٹرسٹ کے تحت اجتماعی قربانی کا نظم
گزشتہ کئی سالوں سے بحمد اللہ ٹرسٹ کے زیرانتظام رحیم یار خاں و مضافات اور آزاد کشمیر و شمالی علاقہ جات سمیت لاہور کے مضافات میں وقف قربانی کا اہتمام کیاجارہاہے ،جس کا گوشت عوام الناس ،غرباء ،فقراء،ضعفاء ومساکین او ٹرسٹ کے تحت قائم مکاتب قرآنیہ کے اساتذہ و طلبہ میں تقسیم ہوتاہے ۔ کراچی میں ٹرسٹ کے نگران اعلی حضرت مولانا محمد سعداللہ صاحب ،رحیم یار خان ومضافات میں حضرت مولانا شبیر احمد صاحب ،آزاد کشمیر میں مولانا اعجاز احمد اشرفی صاحب اپنے رفقاومعاون جماعت کے ساتھ خدمت کے اس عظیم عمل کو سر انجام دیتے ہیں ۔اللہ تعالی سب کی خدمات،کوششوں اور تعاون کو قبول فرمائیں ۔
ذمہ داروں کے نام: مولانا عادل صاحب ( ناظم شعبہ اجتماعی قربانی، ناظم کتب خانہ، استاذالحدیث جامعہ ہذا)، مولانا عبادہ صاحب( منتظم)،مولانا محمدمحسن صاحب ،مولانا ساجد صاحب،مولانا زکریا صاحب۔
1۔ مولانامحمدمحسن صاحب ،یکم ذی قعد سے رجسٹریشن شروع کرتے ہیں ،جوکہ سات ذی الحج تک جاری رہتی ہے ۔
2۔ مولاناعادل صاحب ،مولانا ساجد صاحب کے ساتھ طلبہ کی ایک جماعت ہوتی ہے ،جو شعائر اللہ کی خریداری کرتی ہے ۔
3۔ مولانازکریاصاحب ،شعائراللہ کی خدمت کے ذمہ دار ہیں ،ان کے ساتھ طلبہ کی دو جماعتیں ہو تی ہیں ،ان میں ایک جماعت دن کے وقت شعائراللہ کی دیکھ بھال کرتی ہے اور ایک را ت کے وقت دیکھ بھال کرتی ہے ۔
4۔ مولانامحمد عبادہ صاحب ،اورمولاناعبد الغفار صاحب کے ساتھ بھی طلباے کرام کی جماعتیں ہو تی ہیں ،جو چرمہائے قربانی اکٹھی کر کے منڈی لے جاتے ہیں۔
ضروریات شعبہ: اس کام کے لیے ادارہ کو مستقل جگہ کی ضرورت ہے۔ جہاں پر مویشیوں کو باندھا جاسکے اور عالمی معیارات کے مطابق مذبح بنایا جاسکے اور بوقت ضرورت دوسرے رفاہی کاموں میں بھی وہ جگہ استعمال میں لائی جاسکے۔
فون نمبر برائے ناظم شعبہ: 0331-4018042
ترتیب و تحریر :محمد ارشاد عفی عنہ